"مری بائیکاٹ"مری بائیکاٹ "
کافی دنوں سے دیکھ رہا ہوں کہ مری کے ٹرانسپورٹرز ، دوکانداروں اور دیگر لوگوں کے بارے میں لکھا جا رہا ہے کہ وہ مہنگی چیزیں بیچتے ہیں۔ وہاں کے لوگ اچھے مزاج کے نہیں وغیرہ وغیرہ۔
میں درجنوں دفعہ مری جا چکا ہوں۔ ایک بار 2 مہینے کے لیے وہیں رکا رہا۔
میں آپ کو اپنا تجربہ بتاتا ہوں۔
* یہاں ہر ہوٹل پر کھانا بے حد مہنگا ہے۔
* مال روڈ پر 15 روپے کا sooper بسکٹ 40 روپے کا ملتا ہے۔
* منرل واٹر کی 50 روپے کی بوتل 130 کی ملتی ہے۔
* آلو کی چپس ایک پلیٹ 200 کی ہے۔
* ایک درجن کباب 900 روپے کے ملتے ہیں وہ بھی بُو والے اور اگر شکایت کریں تو دنگا فساد کیا جاتا ہے۔
* بدبودار اور گندے واش رومز میں جانے کے لیے 100 روپے ادا کرنا پڑتے ہیں۔
* اکثر جگہ کار پارکنگ 200 روپے کی ہے۔
* عام طور پر 500/600 روپے میں دستیاب بچوں کے کھلونے 2000 تک کے ملتے ہیں۔
* ہوٹل کے کمرے انتہائی گندے، بدبودار اور مہنگے ہیں۔
* کہا جاتا ہے کہ ہر وقت گرم پانی ملے گا مگر وہاں ضرورت کے لیے "پانی" تک نہیں ہوتا۔ گرم تو دور کی بات ہے۔
* ایک ڈیسنٹ دوست بتا رہا تھا کہ فیملی کے سامنے انھیں ہوٹل کے سوئیپر نے گالیاں دیں کہ وہ گند کی ٹوکری نہیں اٹھائے گا خود باہر پھینک آئیں۔ جب مینیجر سے شکایت کی تو سوئیپر کی سائیڈ لیتے ہوئے اس نے بھی یہی کہا کیونکہ وہ ایڈوانس میں پیسے لے چکا تھا۔
* مری کے لوگ لڑاکا ہیں۔
* فیملی کے سامنے آپ کو گالیاں دینے یہاں تک کہ مارنے سے بھی باز نہیں آتے۔میں کئی لوگوں کو آپ اپنی آنکھوں سے مار کھاتا دیکھ چکا ہوں۔
* میں سڑک پر چل رہا تھا کہ میرے ساتھ ایک شخص چلنے لگا کہ کمرے ہم سے لو۔ میں نے کئی بار اسے سمجھایا کہ نہیں چاہیے مگر وہ یہی کہتا رہا اور آخر مجھ سے جان بوجھ کر ٹکرا گیا اور بولا دیکھ کر چلو۔ اس کے بعد دنگا فساد شروع ہو گیا۔
* یہ ایسے لوگ ہیں کہ خواتین تک کا احترام نہیں کرتے۔ ان کے ساتھ بدتمیزی کرنے یہاں تک کہ گالیاں دینے سے بھی نہیں گھبراتے۔
* ٹرانسپورٹرز جہاں چاہتے ہیں گاڑی پارک کر دیتے ہیں۔ ان کے ریٹ بہت زیادہ ہیں۔ ان سے بحث کا مطلب سیدھا سیدھا گالیاں سننے کے لیے تیار ہو جاؤ۔
* بازار میں فروخت ہونے والی ہر چیز سب سٹینڈرڈ اور اصل سے 400 گنا مہنگی ہے۔
* اب آپ کہیں گے کہ ڈپارٹمنٹس کی کوتاہی ہے۔ تو جناب بطور انسان ہمارے بھی کچھ فرائض ہیں کہ مہمانوں سے کیسے پیش آئیں۔ بطور انسان دوسرے لوگوں سے کیسا سلوک کریں۔
* • سیاہ دور دور سے یہاں سیر و تفریح کے لیے آتے ہیں۔
یہی سیاہ ان مری والوں کی روزی روٹی کا ڈریعہ ہیں اور انھیں ان کی کوئی قدر نہیں۔
آج ہر شخص پریشان اور مسائل کا شکار ہے۔ اگر ایسی جگہ پر آ کر بھی اس نے فیملی سمیت پریشان ہونا ہے تو آنے سے بہتر ہے "مری بائیکاٹ" کیا جائے ! "
کافی دنوں سے دیکھ رہا ہوں کہ مری کے ٹرانسپورٹرز ، دوکانداروں اور دیگر لوگوں کے بارے میں لکھا جا رہا ہے کہ وہ مہنگی چیزیں بیچتے ہیں۔ وہاں کے لوگ اچھے مزاج کے نہیں وغیرہ وغیرہ۔
میں درجنوں دفعہ مری جا چکا ہوں۔ ایک بار 2 مہینے کے لیے وہیں رکا رہا۔
"مری بائیکاٹ" کیا جائے !
